کراچی، 08 نومبر 2024: فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری (ایف پی سی سی آئی) کے سینئر نائب صدر ثاقب فیاض مگوں اور نائب صدر ناصر خان نے بلوچستان میں صنعتوں کے فروغ، بھتہ خوری، اور امن و امان کے مسائل پر حکومت سے فوری اقدامات کا مطالبہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں معاشی ترقی کے بے پناہ امکانات ہیں، لیکن کاروبار میں رکاوٹیں اور بھتہ خوری جیسے مسائل نے حالات مشکل بنا دیے ہیں۔
ثاقب مگوں نے کہا کہ بلوچستان میں معدنیات، خاص طور پر 7 ارب ٹن کے تانبا ذخائر، کی دولت موجود ہے جس سے 5.50 ارب ڈالر حاصل کیے جاسکتے ہیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ پورے بلوچستان کو اسپیشل اکنامک زون قرار دیا جائے تاکہ وہاں صنعتوں کے لیے بہتر ماحول فراہم کیا جا سکے۔
ناصر خان نے بلوچستان میں صنعتوں کی عدم موجودگی اور دہشت گردی کے باعث معاشی سرگرمیوں کی مشکلات کو اجاگر کیا۔ انہوں نے بتایا کہ بلوچستان کے کاروباری افراد بھاری ٹیکس اور ڈیوٹیز ادا کرتے ہیں، لیکن ٹرانسپورٹ کے دوران بھتہ وصولی اور انشورنس کمپنیوں کی جانب سے انکار جیسے مسائل درپیش ہیں۔
ایف پی سی سی آئی کے رہنماؤں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ بلوچستان میں صنعتی زونز کے قیام کے لیے ٹیکس ریلیف دیا جائے اور کاروباری سرگرمیوں کو سہولت فراہم کی جائے تاکہ بلوچستان کی 71 فیصد غربت زدہ آبادی کو روزگار کے مواقع میسر آئیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ اگر حکومت بلوچستان میں سرمایہ کاروں کو سپورٹ کرے تو علاقے میں صنعتی سرگرمیاں بڑھ سکتی ہیں، جس سے بے روزگاری اور اسمگلنگ کے مسائل میں کمی آسکتی ہے۔